تعارف           

قبلہ فیضِِ ملت بحیثیت مفسرِ اعظم پاکستان

علماء تفسیر نے مفسر میں درجِ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری قرار دیا ہے۔

۱۔ صحتِ عقیدہ

 ۲۔ خواہشات ِ نفسانی سے مُبرّا

۳۔ عربی لُغت اور اِس کے فروغ کا علم

۴۔ قرآنی علوم کا علم

۵۔ رقتِ فضل یا دو رِربانی

            حضور قبلہ مفسر اعظم پاکستان مدظلہ العالی نے دنیا ئے تفسیر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیاہے ۔اَحناف کی مشہور و معرو ف تفسیر "روح البیان" کا "۳۰ جلدوں" میں "فیوض الرحمٰن" کے نام سے ترجمہ کر کے ترا جم کی دنیامیں اِنقلاب برپا کر دیا۔ ترجمہ فیوض الرحمٰن کی مقبولیت کا ا ندا زہ اِس بات سے لگا ئیے کہ "پا کستان" کا شاید ہی کوئی شہر ایسا ہو یا کُتب خانہ ہو جس کی زینت فیوض الرحمٰن نہ بنی ہو۔ حتیٰ کہ اب ہندوستان میں بھی شائع ہو ئی ہے اور تمام عوام و خواص اِس سے فا ئد ہ اٹھا رہے ہیں ۔بر ِ صغیر کی دو سالہ تا ریخ میں تفسیرِ مظہری (عربی ) کا ریکا رڈ بھی حضور مفسر اعظم پاکستان مدظلہ العالی کے قلم نے توڑ ا ہے۔

"۱۰ ضخیم جلدوں“ میں عر بی تفسیر” فضل المنان فی آیا ت القرآن“ تحریر کر کے عربی تفا سیر کی دنیا میں ایک نئی تفسیر کا اضافہ کیا ہے ۔ تفسیر فضل المنان کا مقدمہ ،سور ة فا تحہ اور کچھ پاروں کی جلدیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں دیگر انتظار میں ہیں کہ کوئی مردِ مجاہد آئے اور اُنھیں چھپوا کر اِ س کارِ خیر کیلئے اپنا نام رقم کروائے۔اِس کے علاوہ تفاسیر کے میدان میں دیگر شاہکار کام بھی سر انجام دیئے ہیں۔ جن کی اجمالی تفصیل ہدیہ قا رئین ہے۔


فیضِ ملّت کی تحریر کردہ تفاسیر کا ایک اجمالی جائزہ

تفسیرِ اُویسی (اُردو،۵۱ جلدیں اورعربی الگ) ، تفسیر انک لا تھدی ، تفسیر آیة نور، تفسیر آ یة قل لا اقو ل لکم، تفسیر آ یة عندہ مفاتح الغیب، تاریخ القرآن، تقابلِ تراجمِ قرآن، تفاسیر سور ة الفا تحہ و التعوذ فی تفسیر التعوذ، تار یخ تفسیر القرآن،التحریف والبہتان العظیم فی تفسیر تفہیم القرآن ، تزئین الجنان بمکالة القرآن ،تفسیر آیة و ما اھل بہ لغیر اللہ، تفسیرامام احمد رضا، آیة قوا عد ناسخ منسوخ، فیض الرسول فی اسباب النزول(۱۰جلدیں)،احسن البیان فی اُصول تفسیرالقرآن(۳جلدیں) تفسیر بالرائے (۳جلدیں)الھلالین ترجمہ وشرح اُردو جلالین(۵جلدیں)،فیض القدیر فی اُصول التفسیر،القول الراسخ فی معرفة المنسوخ و الناسخ،احسن الشور فی روابط الآیات والسور،فتح المغلقات فی شرح المقطعات ،خیر الخلاص تفسیر سورہ اخلاص،ازالة المشتبھات فی آیات المتشابھات ،تفسیر سورہ فاتحہ تفسیر ورفعنا لک ذکرک ،اعجاز القرآن ،الاسعاف فی تفاسیر الاحناف ،فیض القرآن فی ترجمة القرآن،احسن الشورفی روابط الاسماءوالسور ۔                                            

حضور فیض ِ ملت کے مشہور اور کامیاب مناظرے

الحمد للہ ! حضور فیضِ ملّت نے میدانِ مناظرہ میں بھی مخالفین کو ہمیشہ منہ کے بل گرایا ہے۔آپ بہترین مناظرِ اِسلام کے طور پر سامنے آئے اور اکثر مناظروں میں تو ایک جملے میں مخالفین کے چودہ طبق روشن فرما دیئے ۔ ایک بار کا ذکر ہے جب آپ حضور محدّثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد علیہ الرحمہ کے پاس زیرِ تعلیم تھے۔ ایک شخص آیا اور کہا کہ حضور ہمارے علاقہ میں مخالفین نے ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ اُلٹے سیدھے سوال کر کے بھولے بھالے سُنی مسلمانوں کو بہکا رہے ہیں ۔ آپ کوئی مناظر دیں تا کہ وہ اُن سے مناظرہ کر سکے ۔ اُس وقت فیضِ ملّت سامنے سے تشریف لا رہے تھے جو کہ اُس وقت نوجوان تھے۔ محدّثِ اعظم پاکستان علیہ الرحمہ نے فرمایا "میرا شیر آرہا ہے اِسے لے جاو"۔ فیضِ ملّت کی وُسعت ِ علمی اِ س میدان میں اِ ن کا مجرّ ب ہتھیار ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جو عالمِ دین درس و تدریس کے شعبہ کو اپناتا ہے وہ واعظ وتقریر میں کہیں ہی نظر آتا ہے۔ اگر واعظ وتقریر کو اپناتا ہے تو تحریر و تالیف میں نام نہیں کرپاتا۔ اگر تحریر و تالیف کو وقت دیتا ہے تو مناظرے شاید ہی کرتا ہے۔ مگر داد دیجیئے اِ س مردِ مجاہد کو کہ جس نے کوئی میدان ایسا نہیں جہاں قدم نہ رکھا ہو اور اگر قدم رکھا تو ربِ قدیر نے اِ ن کے خلوص کے بدلے اِ نھیں غازی میدان کیا۔ آئیے دیکھتے ہیں فیضِ ملّت نے کہا ں کہاں مخالفین کو شکست کا منہ دکھایا ۔                                                                                                                              

فیضِ ملّت کے کامیاب مناظروں کی ایک جھلکی

پہلا مناظرہ:

 ۱۳۷۲ھ بمطابق ۱۹۵۲ء دورہ حدیث سے فراغت کے بعد بستی بہرام بلوچ میں مولوی نصیر احمد دیو بندی سے "علمِ غیب" کے موضوع پر بڑا کامیاب منا ظرہ کیا جس کی وجہ سے ساری بستی بد مذہبوں سے آج تک محفوظ ہے ۔اِ س مناظرے سے کچھ عرصہ پہلے ایک اور منا ظرہ بھی کیا تھا جس کی معلومات نہ مل سکی۔

 

دوسرا مناظرہ:

 ۱۳۹۱ ھ بمطابق ۲۷ مئی ۱۹۸۱ء بروز جمعہ مولوی عبدالکریم شاہ دیو بندی ساکن ڈیرہ غازی خان سے مناظرہ کیا۔

 

تیسرا مناظرہ:

۱۳۹۱ ھ بمطابق۱۹۸۱ء نواب شاہ سندھ میں مولوی عبداللہ شاہ دیو بندی سے کامیاب مناظرہ کیا۔

 

چوتھا مناظرہ:

 ۲ رجب المرجب۱۳۹۲ھ بمطابق ۲۴ اگست۱۹۷۱ء بروز منگل بمقام بنگلہ ملکانی، لیاقت پور، ضلع رحیم یا ر خان ایک مشہور دیوبندی مولوی سے مناظرہ فرمایا ۔ جس میں ہمیشہ کی طرح رب تعالیٰ نے آپ کو نصرت سے ہمکنار فرمایا۔

 

پانچواںمناظرہ:

۱۱ صفر ۱۴۰۵ ھ  بمطابق ۲۶نومبر۱۹۸۴ء بروز منگل قصبہ بیٹ ہزاری، علاقہ جتوئی،ضلع مظفر گڑھ ۔ مولوی عبدالشکور دین پوری دیو بندی سے کامیاب مناظرہ کیا۔

 

 چھٹا مناظرہ:

 ۱۴۰۷ ھ بمطابق۴مارچ ۱۹۸۶ء بروز منگل بمقام ٹیوب ویل چوہدری نورالحسن ،موضع کونڈی، ضلع لودھراں۔ مولوی اللہ بخش غیر مقلد سے کامیاب مناظرہ کیا۔

 

ساتواںمناظرہ:

 ۱۴۰۸ ھ  بمطابق۱۷جون۱۹۸۷ء بروزبدھ بمقام ماڑی پلہ نزد ہیڈ اسلام ،تحصیل حاصل پور، ضلع بہاول پور میں مولوی یوسف رحمانی سے ایک منا ظرہ کیا۔ جس میں اُس کے چودہ طبق روشن فرما دیئے۔

 

آٹھواںمناظرہ:

ذیقعد۱۴۱۹ھ بمطابق ۳جنوری ۱۹۹۹ء بروز جمعہ بمقام غازی پور ،تحصیل شجاع آباد، ضلع ملتان۔ مولوی عبدالستار تو نسوی دیو بندی سے کامیاب منا ظرہ کیا۔

 

حضورقبلہ فیض ملت بحیثیت ولی کامل مرشد

آج کے مسلم معاشرہ میں پیری مُریدی کا سیلاب آیا ہوا ہے ۔جاہل، بے عمل، غرور و تکبر کے بُت نما پیروں نے اِس شعبہ کو بدنام کر دیاہے۔ کھوٹے و کھرے اور اصلی و نقلی کی پہچان مشکل ہو گئی ہے۔ گویا پیری فقیری ایک کاروباربن گیاہے۔ آج کے اِ س پُرفتن دور میں لوگوں کے تخّیل کے مطابق سب سے بڑا پیر وہ ہے جس کے پاس جتنی بڑی گاڑی ،جتنی بڑی کوٹھی ہو ۔ جس کے مریدوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو ۔اسی طر ح جُبّہ، قبہ، دستار جتنی بڑی ہوگی اُتنا بڑا پیر ہو گا ۔جو کہ سراسر باطل سوچ اور طریقہ ہے۔ طریقہ اسلاف کو ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ بزرگوں کا طریقہ معاشرہ میں عنقا نظر آتا ہے ۔ خال خال کہیں یہ بوریا نشین مردِ دُرویش اَسلاف کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں۔ جن کو دیکھ کر واقعی ہمیں اپنے بُزرگ یاد آجاتے ہیں۔ اِمام اعظم کی فقہ، اِمام سیو طی کا فنِ تفسیرو حدیث ،غوث ِاعظم کی دعوتِ تبلیغ ،شیخ محقّق کی تحقیق ،اِمام رازی کی تفسیر اور اِمام اہلسنت کے عشق کا نمونہ نظر آتے ہیں۔ اِنہی اکابرینِ اُمت کی جیتی جاگتی تصویر "حضور قبلہ فیضِ ملّت"  ہیں جو سرزمینِ بہاولپور پر جلوہ گر ہیں ۔گم گشتہ اور روحانیت کی پیاسی اِنسانیت کو عشقِ مصطفی صلی الله علیه و آله و سلم کے چھلکتے جام پلا رہے ہیں۔ گو یاا ِنہوں نے توحید ورسالت وعشقِ نبوی صلی الله علیه و آله و سلم کابے مثال مے خانہ کھولا ہوا ہے اور تشنہ گام لوگ اپنی دینی وروحانی پیاس بجھا رہے ہیں۔ یہ مردِ دُرویش قلندرانہ صفت کا مالک مردِ کامل ایک پھٹی پرانی چٹائی پر بیٹھا نہ کوئی دربار، نہ سیکورٹی گارڈ، نہ اَوقاتِ خاص، نہ پروٹوکول ،نہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ۔ گویا اپنے اِسم شریف کا عملی نمونہ بن کر ہر آنے والے کی روحانی، دینی، دنیاوی ضرورتوں کی تکمیل فرما رہے ہیں۔ عجب معاملہ ہے جو بھی مرید ہو تا ہے مرشدِ کریم "حضور قبلہ مفسر اعظم پاکستان مدظلہ العالی" اُن کو پیر بھائی ہی کہہ کر پکارتے ہیں ۔ گویا وہ اپنے آپ کو بھی سرکار سید نا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مرید کہتے ہیں اور اپنے دستِ پاک پر بیعت ہو نے والو ں کو بھی حضور سید نا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مرید کہتے ہیں ۔ اس طرح گویا حضور فیضِ ملت اپنے دست ِاقدس پر بیعت ہو نے والے کو اپنا مرید نہیں بلکہ اپنا پیر بھائی کہتے ہیں۔ آپ کے آستانہ قدسیہ پر نہ دنبہ ،بکری کی ڈیمانڈ، نہ ڈنڈا سوٹے سے علاج اور نہ ہی تعویذات کی روایتی منڈی، نہ فروخت، نہ جھاڑ پھونک کے لمبے چوڑے طریقے، نہ پیشہ ور پیروں جیسا مصنوعی جلال و جمال، نہ چہرہ پر دہشت وحشت اور نہ لہجہ متکبّرانہ چال فرعونا نہ ۔ یہ اما مِ اہلسنت کا سچا اور پکا عشقِ محمد رسو ل اللہ صلی الله علیه و آله و سلم کی تعلیمات، سنتوں کا حقیقی داعی عامل، اِمام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فقہ (حنفی) کا عظیم پاسبان، زندگی درویشانہ ،لباس فقیرانہ ،طرزِ عمل سنتوں کا پیکر ، اخلاقِ حسنہ کا عظیم شاہکار، ملک ِپاکستان تو کیا بلادِ اسلامیہ حتیٰ کہ یورپین ممالک تک اپنی حسین مسکراہٹوں کو بکھیر کر پیغامِ عشقِ مصطفوی کو پھیلا بھی رہاہے اور عام بھی کر رہا ہے ۔ اِسے کہتے ہیں حقیقی پیری اور صحیح معنوں میں مریدی جسے دیکھ کر اللہ بھی یاد آئے اور اُس کے محبوب و مقبول بندے بھی۔ بے شک یہی ہیں انعامِ یافتہ لوگ جن پر اللہ بھی راضی اور یہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہیں۔ اِن لوگوں کی سبیل کو اپنانے کی دعا ہمیں رب ِکائنات نے اُمِ اکتاب میں سکھائی ۔                                                  

صراط الذین انعمت علیہم