• رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کا بیج دل میں بوؤیونہی آپکے ادب اور تعظیم کو جانِ ایمان س
  • انبیاء و اولیاء سے عقیدت رکھو ان کے آداب اور اعزاز میں کمی نہ کرو۔ یو نہی علمائے اہلسنت کے ساتھ پیش
  • اپنے رتبے سے بڑھ کر دعویٰ نہ کرو۔ہر وقت عجز وتواضع میں رہو۔
  • جس لیاقت کا جو آدمی ہو اس کی ویسی ہی عزت کرو۔
  • ہر اک کا حق پہچانو۔
  • جو راز کہنے کے قابل نہ ہو اُس کو منہ سے ہر گز نہ نکالو۔
  • دوست کی پہچان یہ ہے کہ وقتِ مصیبت کام آئے۔
  • احمق اور نادان آدمی کی صحبت سے کنارہ کرو۔
  • عقلمند اور دانا آدمی سے دوستی کرو۔

Most Viewed

  • SHAFQAT E MUSTUFA BAR KHALQAT E KHUDA

    SHAFQAT E MUSTUFA BAR KHALQAT E KHUDA

  • Shab e Baraat Kay Fazaail o Ahkaam

    Shab e Baraat Kay Fazaail o Ahkaam

  • Faiz e Aalam April 2017

    Faiz e Aalam April 2017

  • Faiz e Aalam February March 2017

    Faiz e Aalam February March 2017

 

Taa'ruf Silsilah Uwaysia


ِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلصَّلوٰ ۃُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَحْمَۃَ لِّلْعِالَمِیْنَ

تعارفِ سلسلہ اُویسیہ


نحْمَدُہ، وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہ الْکَرِیْمِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَا بِہٖ اَجْمَعِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الْشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰـہِ الرَّحْمٰـنِ الرِّحِیْمِ

لوگوں میں یہ غلط فہمی ہے کہ'' اُویسی ''سے مراد حضرت اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی اُولاد ہیں۔جس طرح اولادِ قریش ''قریشی ''، اولادِ بنو ہاشم ''ہاشمی'' کہلاتی ہے اور جن حضرات کا شجرہ نسب کئی واسطوں سے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ تک جا پہنچتا ہے ''صدیقی'' کہلاتے ہیں اور جن کے اجداد کا شجرہ نسب کئی واسطوں کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے جاملتا ہے ''فاروقی'' کہلاتے ہیں۔اسی طرح شاید'' اُویسی'' حضرات کا سلسلہ نسب بھی کئی واسطوں سے گزر کر حضرت اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ تک جاپہنچتا ہوگا۔

دراصل حضرت اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے اپنی تمام زندگی عباداتِ الٰہی میں بسر فرمادی ۔آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے نہ ہی شادی کی اور نہ ہی آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی اُولاد ہوئی ۔ آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے اپنی تمام عمر تارک الدنیا اور مستور(چھپا ہوا، مخفی)گزاری اور باری تعالیٰ سے وعدہ لیاکہ مجھے روزِ قیامت بھی مستور رکھا جائے۔حضرت اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو مشرف بہ اسلام ہونے کے لئے کسی نے تبلیغ نہیںکی اور نہ ہی آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو دائرہ اسلام میں لانے کے لئے کوشش کی گئی۔

جب اسلام کا سورج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوا اور اس کی کرنوں کی روشنی نے یمن کو منوّر کیا تو حضرت اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے بغیر کسی تبلیغ کے یا بغیر کسی کی طرف سے آ پ ر ضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو راغب کرنے کے دینِ اسلام کو دینِ برحق جانا اور آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے دل نے گواہی دی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشک و شبہ ہادی برحق ہیں ۔آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق بن گئے یعنی آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے دل میں ایمان کی روشنی باری تعالیٰ کی طرف سے براہ راست داخل ہوئی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شعلہ بھی خودبخود بھڑکا۔

اس بات کا علم صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم کوتھا ۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اُوقات اپنے صحابہ کرام اجمعین کے سامنے اپنا سینہ مبارک یمن کی طرف کرکے فرماتے

: إِنِّی لِأَجِدُ نَفَسَ الرَّحْمَنِ مِنْ قِبَلِ الْیَمَنِ

(فیض القدیر للمناوی، الجزء١٤،الصفحۃ٣٢١)

یعنی میں رحمن کی خوشبو یمن کی طرف سے پاتاہوں۔

حضرت اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے سلسلہ اُویسیہ کی بنیاد پڑی اور آپ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ ہی کی سنت کی پیروی کی وجہ سے اصطلاحِ صوفیہ میں'' اُویسی ''اُسے کہا جاتا ہے جو واسطہ پیر کے بغیر اور کسی پیر کے ارشاد اور تلقین کے بغیر ہی بارگاہئ خداوندی سے درجہ ولایت پائے۔ مندرجہ بالا نظریہ حضرت خواجہ محمد پارسا رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے رسالہ ''قدسیہ ''میں تحریر فرمایاہے ۔علماء اور مشائخ نے اس بارے میں مندرجہ ذیل نظریا ت پیش کیے ہیں۔

حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اﷲ علیہ کا قول مولانا غوثی رحمۃ اﷲ علیہ نے ''گلزارِ ابرار''میں اس طرح نقل فرمایا ہے ''بعض اُولیاء اﷲ جن کو اُویسی کہا جاتا ہے ان کو ظاہری پیر کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بلاواسطہ پیرا ُن کو ہدایت فرمادیتے ہیںجیساکہ حضرت خواجہ اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کو کسی واسطے کے بغیر ہدایت نصیب ہوئی۔''

حضرت شاہ ولی اﷲ دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ ''ہمعات'' میں نسبتِ اُویسیہ کی تشریح یوں فرماتے ہیں''نسبتِ اُویسیہ کی تفصیل یہ ہے کہ انسان ایک نفسِ ناطقہ ہے جو بمنزلہ ایک آئینہ کے ہے۔جس میں انسان کی روحانی کیفیات کا بھی عکس پڑتا ہے اور اس کے جسمانی احوال سے ہر کیفیت اور ہر حالت میں قدرت نے استعداد رکھی ہے ۔اس کی وہ استعداد جس کا تعلق جسمانی احوال سے ہے اور وہ استعدادجو اس کی روحانی کیفیت سے متعلق ہے ان دونوں میں کلی تنافرواختلاف ہے۔ روحانی کیفیت میں سے ایک کیفیت یہ ہے کہ سالکین راہ طریقت جب عالمِ ناسوت کی پستی سے نکل کر عالمِ ملکوت کی بلندی پر فائز ہوتے ہیں اور خسیس و ناپاک عبارات کو کلیتہً ترک کر دیتے ہیں تو اس حالت میں وہ لطیف و خوشگوار کیفیات میں ڈوب کر بالکل فنا ہوگئے ہیں ۔چنانچہ اس مقام میں سالکوں کی حالت اس مشک کی سی ہوجاتی ہے جس میں پوری قوت سے ہو ابھر دی جائے اور اس کی وجہ سے وہ اس طرح پھول گئی ہو کہ خواہ پانی میں ڈال دیں وہ کسی طرح تہہ آب نہیں ہوتی۔

سلسلہ اُویسیہ عاشقِ رسول مدنی طاؤس یمنی حضرت خواجہ اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے منسوب ہے ۔اصطلاحِ تصوف میں نسبتِ اُویسیہ وہ ہوتی ہے جو صاحبِ فرار سے بغیر ملاقات ظاہری کے ہو اور یہ نسبت قائم کرنے والا خواب یا مراقبہ میں زیارت کرے۔

اس کے علاوہ سلسلہ اُویسیہ کے بارے میں دیگر اقوال حسبِ ذیل ہیں:

  • ١جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع سے مرتبہ ولایت حاصل ہو۔
  • ٢ جس کو حضرت خضر علیہ السلام سے فیض پہنچے۔
  • ٣ جس کسی کو ایسے کامل نے ہدایت کی ہو جس کو درمیانی واسطوں کے بغیر درجہ ولایت مل گیا ہو۔
  • ٤ جو سلسلہ اُویسیہ کے مشائخ میں کسی سے ارادت رکھتا ہو۔

سلطانُ العاشقین حضرت خواجہ عبد الخالق رحمۃ اﷲ علیہ نے مراقبہ فرمایا اور آپ رحمۃ اﷲ علیہ کو حضر ت اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کی زیارت ہوئی۔جنہوں نے اپنے دستِ مبارک پر آپ رحمۃ اﷲ علیہ کو بیعت کے شرف سے نواز کر اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ اسی طرح سلطانُ التارکین حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی رحمۃ اﷲ علیہ کو جہاں سلطانُ العاشقین حضرت عبد الخالق رحمۃ اﷲ علیہ سے ارادت تھی وہاں حضرت خضر علیہ السلام نے بھی آپ رحمۃ اﷲ علیہ کو فیض یاب فرمایا ۔علاوہ ازیں متعابعت و رہبری سنت کا جو اہتمام آپ رحمۃ اﷲ علیہ نے زندگی بھر کیا اس کے صلے میں حضورِ اکرم اکی ہدایت اور رہنمائی بھی آپ کے شاملِ حال رہی۔

سلسلہ اُویسیہ کی بنیاداُصولوںپر ہے ان میں''ہوش وردم''،''خلوت ''اور ''انجمن''کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ''ہوش وردم''کی اصطلاح نقشبندی طریقہ میں بھی رائج ہے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی دم یادِ خدا سے غافل نہ ہو یعنی انسان جو سانس لے یادِ حق میں لے اور اُس کی حضوری کے بغیر سانس نہ لے۔

''خلوت اور انجمن''سے مراد یہ ہے کہ طالب ظاہر میں مخلوق کے ساتھ مشغول رہے اور باطن میں سب سے علیحدہ اور دور رہے۔یعنی صورتاً سب کے ساتھ ہو اور اصل میں کسی کے ساتھ نہ ہو یایوں کہہ سکتے ہیں ۔

کہ دست بکار دل بہ یار

حضرت شاہ جلال الدین محمد جعفری اُویسی نے اپنی کتاب''گلزارِ جلالی''میں یہ حدیث بیان فرمائی ہے:

خَالِطُوا النَّاسَ بِأَلْسِنَتِکُمْ وَأَجْسَادِکُمْ وَزَایِلُوہُمْْ بِقُلُوبِکُمْ
(الزھد الکبیر للبیہقی،الجزء١،الصفحۃ٢٠٣،الحدیث٢٠٠)

یعنی لوگوں میں رہو جسموں تک اور دور رکھو ان کو اپنے دل سے۔

بعض حضرات ہم اہلسنّت غلامانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُولیاء اﷲ کے عقیدت مند وں کو مشرک اور بدعتی قرار دیتے ہیں اور معجزاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو ضعیف قرار دے کر نہیں مانتے۔ اسی طرح یہ لوگ حضرت اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے وجود سے بھی انکار کرتے ہیں اور اسے فرضی قصہ یا خیالی کردار قرار دیتے ہیں۔اگر اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے وجود سے انکار کیا جائے تو سلسلہ اُویسیہ کا وجود کب برقرار رہ سکتاہے۔ان حضرات کی معلومات اور تسلی کے لئے میں یہاں صدیوں پُرانی نہیں بلکہ چند سال پیشتر ملک کے عظیم دانشور ، مفکر اور معروف بیورو کریٹ جناب قدرت اﷲ شہاب کی آب بیتی جو اُنہوں نے اپنی مشہور تصنیف ''شہاب نامہ'' میں صفحہ نمبر١١٨٠تا١١٨٦میں تحریر کی ہے نقل کررہاہوں جس سے حضرت اُویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کا وجود حضرت محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت رضوان اﷲ اجمعین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیھم اجمعین اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برگزیدہ ہستیاں (اُولیاء کرام )کس طرح اس وقت حیات ہیں اور لوگوں کے مسائل کے متعلق درخواستیں وصول فرماکر اُن پر احکامات صادر فرماتے ہیں۔ کرامات بعدازوفات کے منکرین کی آنکھیں کھول دینے کے لئے یہ تحریری واقعہ کافی ہے اس بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ روایت ضعیف ہے کیوں کہ شہاب صاحب نے اپنی تصنیف خود شائع کرائی ہے ۔١٩٩٩ء میں اس کا بیسواں ایڈیشن شائع ہوا جو اس کتاب کی مقبولیت کی دلیل ہے ۔ملاحظہ فرمائیں۔

تحریر شہاب صاحب :ایک بار میں کسی دور دراز علاقہ میں گیا ہوا تھا وہاں ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوسیدہ سی مسجد تھی۔میں جمعہ کی نماز پڑھنے اس مسجد میں گیا تو ایک نیم خواندہ مولوی صاحب اُردو میں بے حد طویل خطبہ دے رہے تھے ۔اُن کا خطبہ گزرے ہوئے زمانوں کی عجیب و غریب داستانوں سے اَٹا اَٹ بھرا ہوا تھا ۔کسی کہانی پر ہنسنے کو جی چاہتا تھا کسی پر حیرت ہوتی تھی لیکن اُنہوں نے ایک داستان کچھ ایسے انداز سے سُنائی کہ تھوڑی سی رقت طاری کرکے وہ سیدھی میرے دل میں اُتر گئی۔یہ قصہ ایک باپ اور بیٹی کی باہمی محبت و احترام کا تھا ۔باپ حضورصلی اللہ علیہ وسلم تھے اور بیٹی حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا تھیں۔مولوی صاحب بتا رہے تھے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بعض صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی کوئی درخواست یا فرمائش منظور نہ فرماتے تو بڑے بڑے برگزیدہ صحابہ کرام بی بی فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر اُن کی منت کرتے تھے کہ وہ اُن کی درخواست حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جائیں اور اسے منظور کروا لائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بیٹی کا اتنا پیار اور احترام تھا کہ اکثر اُوقات جب بی بی فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا ایسی کوئی درخواست یا فرمائش لے کر حاضرِ خدمت ہوتی تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش دلی سے اُسے منظور فرمالیتے تھے ۔اس کہانی کو قبول کرنے کے لئے میرا دل بے اختیار آمادہ ہوگیا۔نمازِ جمعہ کے بعد میں اس بوسیدہ مسجد میں بیٹھ کر نوافل پڑھتا رہا۔کچھ نفل میں نے حضرت فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کی روح مبارک کو ایصالِ ثواب کی نیت سے پڑھے ۔پھر میں نے پوری یکسوئی سے گڑگڑا کریہ دعا مانگی، '' یا اﷲ میں نہیں جانتا یہ داستان صحیح ہے یا غلط لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تیرے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اپنی بیٹی خاتونِ جنت کے لئے اس سے بھی زیادہ محبت اور عزت کا جذبہ موجزن ہوگا۔اس لئے میں اﷲتعالیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی روحِ طیبہ کو اجازت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والدِ گرامی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کرکے منظور کروالیں۔درخواست یہ ہے کہ میں اﷲ کی راہ کا متلاشی ہوں سیدھے سادھے مروجہ راستوں پر چلنے کی سکت نہیں رکھتا ۔اگر سلسلہ اُویسیہ واقعی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے تو اﷲ کی اجازت سے مجھے اس سلسلہ سے استفادہ کرنے کی توفیق اور ترکیب عطافرمائی جائے۔''

اس بات کا میں نے اپنے گھر یا باہر کسی سے ذکر تک نہ کیا ۔چھ ،سات ہفتے گزر گئے میں اس واقعہ کو بھول گیا پھر اچانک سات سمندر پار کی میری بھابھی کا ایک عجیب خط موصول ہوا ۔وہ مشرف بہ اسلام ہوچکی تھیں اور نہایت اعلیٰ درجہ پابند صوم و صلوٰۃ خاتو ن تھیں اُنہوں نے لکھا۔

The other night I had the good fortune to see HAZRAT FATIMAH (RADI ALLHA HO ANHO) daughter of the HOLY PROPHET (PEACE BE UPON HIM) in my dream. She talked to me most graciously and said, tell your brother-in-law Qudratullah Shahab that I have given his request to my exalted father who has very kindly submitted and accepted it.

یعنی اگلی رات میں نے خوش قسمتی سے فاطمہ بنتِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اُنہوں نے میرے ساتھ نہایت شفقت اور تواضع سے باتیں کیںاور فرمایااپنے دیور قدرت اﷲ شہاب کو بتادوکہ میںنے اُس کی درخواست اپنے برگزیدہ والدِ گرامی کی خدمت میں پیش کردی تھی ۔اُنہوں نے ازراہئ نوازش اُسے منظور فرمالیا۔

یہ خط پڑھتے ہی میرے ہوش و حواس پر خوشی اور حیرت کی دیوانگی سی طاری ہوگئی ۔مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میرے قدم زمین پر نہیں پڑرہے بلکہ ہوا میں چل رہے ہیں۔یہ تصور کہ اس برگزیدہ محفل میں ان باپ بیٹی کے درمیان میرا ذکر ہوا۔میرا روئیں روئیں پر ایک تیز و تند نشے کی طرح چھا جاتا تھا ۔کیسا عظیم باپ اور کیسی عظیم بیٹی۔دو تین دن تک اپنے کمرے میں بند ہوکر مجسم صورت بنابیٹھا رہا کہ مجھ سے بہتر ذکر میرا ہے کہ اس محفل میں ہے۔

حضرت بختیار کاکی رحمۃ اﷲ علیہ نے ایک پیالہ ہمارے درمیان رکھا جس میں کھانے پینے کی کوئی چیز پڑی تھی ۔ اُنہوں نے اچانک فرمایا تم یہ زندگی چاہتے ہو یا وہ زندگی؟خواب میں میرے دل کا چور انگڑائی لے کر بیدار ہوگیا اور اُس نے مجھے گمراہ کیاکہ اس سوال میں فوری طور پر موت قبول کرنے کی دعوت ہے یعنی دنیاوی زندگی چاہتے ہو یا آخرت کی زندگی۔مجھے ابھی زندہ رہنے کا لالچ تھا اس لئے میں اپنے دل کے چور کی پیدا کی ہوئی بدگمانی کا شکار ہو گیا۔حضرت کچھ یہ زندگی چاہتاہوں کچھ وہ۔ میرا یہ کہنا تھا کہ میرے بائیں پہلو کی جانب سے ایک کالے رنگ کا کتا جھپٹتاہواآیا اور آتے ہی میرے سامنے پڑے ہوئے پیالے میں منہ ڈال دیا۔ قطب صاحب رحمۃ اﷲ علیہ مسکرائے اور فرمایا افسوس یہ مفت کی نعمت تمہارے مقدر میں نہیں۔تمہارا نفس تم پر بُری طرح غالب ہے اس لئے مجاہد ہ کرنا ہوگا۔اس کے بعد کئی ماہ تک نہ کوئی خواب آیا نہ ہی کسی قسم کا واقعہ رونما ہوا۔دل اور دماغ میں احسا سِ محرومی کے پرنالے بہنے لگے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں سب کچھ حاصل کرکے اچانک سب کچھ کھو بیٹھا ہوں۔ بار بار خودکشی کرنے کا خیال آتاتھا۔ایک بار میں نے ڈوب کر خود کشی کا منصوبہ بھی بنایا ۔نہر میں چھلانگ لگانے کے لئے پل کی منڈھیر پر جا بیٹھا غالباًجذبہ چھوٹا تھا اس لئے بیٹھاہی رہ گیا اور چند گھنٹے بعد زندہ سلامت گھر واپس آگیا۔ اس عالمِ یاس واضطراب میں تین سوا تین ماہ گزر گئے جو میرے باطنی وجود پر تین صدیوں کی طرح بھاری گزرے۔اس کے بعد ٩جون کو مبارک دن طلوع ہوا۔یہ میری زندگی کے دو یا تین اہم ترین ایام میں سے ہے ۔اس روز مجھے اچانک نائنٹیNinetyکا پہلا خط موصول ہوا۔ میں اُسے فقط کوڈ نام سے جانتا ہوں ۔میں نے اُسے کبھی نہیں دیکھا اورنہ مجھے معلوم ہے کہ وہ کون ہے؟اور کہا ں ہے؟ہماری خط و کتابت بذریعہ ڈاک فقط ایک بار ہوئی ہے اُس کا پہلا خط بذریعہ ڈاک آیا تھا لفافے پر ڈاکخانے کی جو مہر لگی ہوئی تھی وہ یو ں تھی۔

June 9, Jammu Market, 9:30 A.M

ڈاکیہ اُسی روز دن کے ساڑھے بارہ بجے یہ خط ڈیلیور(Deliver) کر گیا تھا ۔شہر کے پوسٹل نظا م میں ایسا ممکن ہی نہ تھا کہ صبح ساڑھے نو بجے کا پوسٹ کیا ہوا خط اسی روز ساڑھے بارہ بجے مل بھی جائے۔

تیرہ صفحات پر مشتمل اس خط میں میرے ظاہر اور باطن کی ایسی ایسی خامیوں،کوتاہیوں، خرابیوں اور کمزوریوں کو اس قدر تفصیل اور وضاحت سے بیان کیا گیا تھا جن میں سے بعض کا علم مجھے اور صرف میرے خدا کے علاوہ اور کسی کو نہ تھا اور بعض کا مجھے خود بھی پورا علم نہ تھا۔ یہ خط اس طرز کی فصیح وبلیغ اور دقیق انگریزی زبان میں لکھا ہوا تھا کہ اُسے سمجھنے کے لئے مجھے باربار ڈکشنری کا سہار ا لینا پڑا تھا ۔نصف خط اس تجزیہ پر مشتمل تھا اور باقی کا نصف احکامات ،ہدایات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے پُر تھا۔آخر میں لکھنے والے کے نام کی جگہ فقط یہ درج تھا:

A Ninety years young Faqir
"یعنی ایک نوے سالہ جوان فقیر"

اس خط میں ایک حکم یہ تھا کہ چند سوالات جو اُس میں اُٹھائے گئے تھے اُن کا مکمل جواب انگریزی میں لکھ کر اُسے اپنی کتابوں کی الماری کے کسی خانے میں رکھ دوںمیں نے فوراً تعمیلِ حکم کردی ۔چند لمحے بعد الماری کے پٹ کھولے تو میرا لکھا ہوا خط وہاں سے غائب تھا ۔اس خط کا جوجواب آیا وہ اسی شب میرے تکیہ کے ینچے پڑاہوا ملا ۔جواب کے آخر میں ایک نوے سالہ جوان فقیر کی جگہ فقط ایک لفظNinetyنوے درج تھا۔

اس واقعے سے میرے تن بدن میں شدید ہیبت اور گھبراہٹ طاری ہوگئی ۔کچھ عرصہ مجھ پر نیم بے ہوشی کا سا عالم طاری رہا۔ میری بے کسی اور بے بسی پر ترس کھا کر نانئٹی نے آئندہ سے میرے چھوٹے بھائی حبیب اﷲ شہاب کو بھی میرا رفیق کار بنادیا ۔حبیب کی رفاقت میرے لئے سونے پر سہاگہ ثابت ہوئی۔

اس کے بعد کم وبیش پچیس برس تک ہمارے درمیان اس عجیب وغریب خط و کتابت کا سلسلہ تقریباً روزانہ جاری رہا ۔ بعض اُوقات ہمارے درمیان خطوط کی آمدورفت دن رات کے دوران تین تین یا چار چار تک پہنچ جاتی تھی ۔حبیب ہمارا پوسٹ آفس تھا ،ہمارا لیٹر بکس کبھی الماری ہوتی تھی ،کبھی اپنی جیب ، کبھی کوئی کتاب یا کاپی یا کبھی سرِراہ چلتے چلتے نائنٹی کے تحریرکردہ خطوط ہوا کے دوش پر سوار پھول کی پتیوں کی طرح سر پر آلگتے تھے۔

حکم تھا کہ اس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر کو جلداز جلد تلف کردیا جائے البتہ اتنی اجازت ضرور تھی کہ اس کے احکامات اور اس کی ہدایات کو اپنے طور پر اپنے الفاظ میں بے شک محفوظ کرلیاجائے کہ اگر یہ کاغذات کسی کے ہاتھ لگ جائیں تو یہ سب باتیں محض پرُاگندہ خیالی اور بے معنی رطب ویاس نظر آئیں۔ فقط ایک بار چھوڑ کر میں اس حکم کو بھی پوری طرح پابندی سے بجالاتارہا۔

ایک روز میرے دل میں لالچ آیا کہ میں اپنے گمنام اور نادیدہ خضرِ راہ کا کم از کم ایک دستخط Ninetyاس کے کسی خط سے پھاڑ کر نشانی اور برکت کے طور پر اپنے پاس محفوظ کرلوں۔یہ خیال آنا تھا کہ سزا کا تازیانہ فوراًنازل ہوگیا۔رات کا وقت تھا بجلی کے بلب اردگرد چند منڈلارہے تھے ۔دیکھتے ہی دیکھتے وہاں پر ایک کاغذ منڈلانے لگا اور آہستہ آہستہ بل کھاتا ہوا نیچے میری گود میں آ گرا ۔اس میں تحریر تھا کہ حکمِ عدولی کا یہ منصوبہ فوری سزا کا مستحق ہے ۔سزا یہ تجویز ہوئی کہ بتیاں چند لمحوں کے بعد اپنے آپ گُل ہوجائیں گی اور میرے دونوں ہاتھ او ردونوں پاؤں نصف گھنٹہ تک ایک زندہ سانپ سے باندھ کر رکھے جائیں گے۔اس خوفناک سزا کا فیصلہ سُن کر میں بے اختیار رو پڑا۔ میں نے جلدی جلدی اپنے ارادہ سے توبہ کی ۔دل کی گہرائیوں سے معافی مانگی اور غالب کا یہ شعر انگریزی میں ترجمہ کے ساتھ لکھ کر الماری میں رکھ دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بجلی کے بلب کی جانب سے نانئٹی کا جواب لہراتا ہوا میرے ہاتھ میں آیا جس میں تحریر تھا ہاہاہابس دو زندہ سانپوں کے تصور سے ڈر گئے ۔بزدل ہو، چلو معاف کیا ۔لیکن یہ بات ہرگز نہ بھولو کہ قبر میں دیگر حشراتِ الارض کے علاوہ زندہ سانپ بھی موجود ہوں گے۔وہاں پرنہ توبہ کا وقت ہوگا نہ ہی توبہ قبول ہوگی اور غافل بندے تجھے کیا معلوم کہ دن رات تمہارے بدن اور باطن کے ساتھ کتنے خوفناک اژدھے زبانیں نکال نکال کر لپٹے رہتے ہیں اور وقت آنے پر کتنے زیرِ زمین اژدھے بے تابی سے تمہارا انتظار کررہے ہیں کاش تم لوگ جانتے ''نانئٹی ''۔

ایک روز میں نے اپنے رہنما سے دریافت کیا آپ کون ہیں،کہاں ہیں،کیا کرتے ہیں اور روحانیت کے کس مقام پر فائض ہیں؟ جواب ملا پہلے تین سوال فضول ہیں ۔ان کا جواب تمہیں کبھی نہیں ملے گا ۔باقی رہی روحانیت کے مقام کی بات اس طویل راستے پر کہیں کہیں گھاٹیاں اور کہیں کہیں سنگِ میل آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں ۔منزل یا مقام کا کسی کو علم نہیں۔اس سڑک پر سب ہیں کوئی آگے کوئی پیچھے ۔منزل صرف ایک بشر کو ملی ہے جس کے بعد اور کوئی مقام نہیں۔ اس بشر کا نام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔تم اُن کا نام رٹتے تو بہت ہو لیکن کیا کبھی اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش بھی کی ہے؟اگرایسا کرتے تو آج ایک کچی دیوار پر آبلے کی مانند چسپاں نہ ہوتے جس پر مکھیاں تک بھنبھنانا چھوڑ دیتی ہیں۔یہی میرا سلسلہ اُویسیہ تھا جس کی رہنمائی میں اس گنہگار نے راہ سلوک پر چند ڈگمگاتے قدم کی سعادت حاصل کی ہے۔ آپ نے پڑھ لیا۔

یہ ہے موجودہ دور کی کرامت اور سلسلہ اُویسیہ کا حقیقت ہونے کا ثبوت ۔آپ نے پڑھا ہوگا کہ شہاب صاحب نے بی بی فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کی معرفت آقا نامدار صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہی یہی کیا تھا کہ کیا سلسلہ اُویسیہ کا کوئی وجود ہے یا یہ صرف ایک افسانہ ہے۔

اس کا جو جواب ملا اُس کے علاوہ بی بی فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کے پاس شہاب صاحب کی گزارش پہنچنا ۔آپ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست پیش کرنا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قبول فرمانا اور بی بی فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کا سات سمندر پار ایک نو مسلم خاتون کی معرفت شہاب صاحب کو اس سے مطلع فرمانا۔ کیا ثابت نہیں کرتا ہے کہ اﷲ کی برگزیدہ اور محبوب ہستیاں اپنے عقیدت مندوں کی درخواستوں اور گزارشوں سے مطلع ہوتی ہیں بلکہ اُن پر اپنا فیض و کرم بھی عنایت فرماتی ہیں۔

اس تمام بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت خضر علیہ السلام یا صاحبِ مزار بزرگانِ دین سے براہ راست فیض یافتہ کا نام'' اُویسی'' ہے نیز سلسلہ اُویسیہ کے مریدان بھی'' اُویسی'' ہی ہیں۔

٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭